بنگلورو،9/اپریل(ایس او نیوز) آل انڈیا ریم دعوت قرآن کریم کے زیراہتمام عیدگاہ قدوس صاحب میں منعقد عظیم الشان عالمی محفل قرأت کے اہتمام کیا گیا تھا ۔اس پرنور تقریب کی صدارت کرتے ہوئے امیرشریعت کرناٹک وحکیم الملت مفتی محمداشرف علی باقوی نے اپنی صدارتی خطاب میں کہا کہ مذہب اسلام اورایمان خالص سلامتی ہیں کچھ طاقتیں خواہ مخواہ اسلام اورمسلمانوں کو دہشت گردی سے جوڑ کر اس کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کررہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اﷲ اوررسولؐ کی تعلیمات پر عمل پیرا مسلمان اپنی مشکل میں بھی کسی کی پریشانی کا سبب نہیں بنتا ۔ایسی قوم کو خواہ مخواہ نفرت اورعداوت کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ امیرشریعت نے کہاکہ اسلام اورمسلمانوں کو جو طاقتیں بدنام کرنے میں لگی ہیں اﷲ تعالیٰ ان طاقتوں کو نیک توفیق اور ہدایت نصیب کرے۔ مذہب اسلام کا دہشت گردی یا تشدد سے دور دور تک واسطہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اﷲ تعالیٰ نے ساری انسانیت کو ایک کنبہ قرار دیا ہے اورسارے انسانوں کو آدم وحواؑ کی اولاد بنایا ہے ۔ مختلف قبیلے صرف تعریف اورپہچان کے لئے بنائے گئے ہیں ۔اﷲ نے انسان کو ایک دوسرے پر چاہے وہ عربی ہو عجمی ہو گورا ہو یا کالا کسی پر فوقیت نہیں دی ہے ۔امیرشریعت نے کہاکہ اسلام اورایمان یہ دونوں امن وسلامتی چاہتے ہیں ۔ آپسی انتشار ،عداوت، دشمنی ، یہ انسانوں کا کام نہیں ہے۔اس سے پرہیز کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہاکہ فضیلت صرف ان لوگوں کی ہے جو اﷲ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوگا وہی سب سے زیادہ پرہیزگار ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ایسی امت کو اور مسلمانوں کو خواہ مخواہ پریشان کرتے ہوئے دہشت گردی سے منصب کرتے ہیں ۔ حالانکہ کسی طرح کی گڑ بڑ مسلمانوں کے مزاج میں موجود ہے۔ نبی کریمؐ نے اپنے عمل سے ہمیں بتایا ہے کہ مومن وہ ہے کہ جس کی پریشانی میں بھی دوسروں کو تکلیف نہ ہوں۔انہوں نے مزیدکہاکہ لوگ مسلمان کے نام سے مطمئن رہیں اس کے نام سے کسی بھی طرح کی کوئی گھبراہٹ دلوں میں ہرگز نہ لائیں ۔ امیرشریعت نے کہاکہ دلوں میں قرآن کی عظمت واحترام صحیح معنوں میں نہ ہونے کے نتیجہ میں آج ہماری دعاؤں میں اثرنہیں اور یہ دعائیں قبول نہیں ہورہی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ابتداء میں نبی کریمؐ نے بھی حضرت جبرئیل کی تلاوت کے پیچھے پیچھے فوراً جلدی اپنے مبارک ہونٹوں اور مبارک زبان کو حرکت دیا کرتے تھے ۔اس خیال سے کہ قرآن مجید کا کوئی حرف یا د کرنے سے رہ نہ جائے ۔حضورؐ کی اس پریشانی کے ازالہ کے لئے اﷲ تعالیٰ نے تسلی دی کہ آپؐ اس قدر پریشان ہوکر اپنی زبان مبارک کو جنبش نہ دیں اس کو آپؐ کے سینہ میں محفوظ کرادینا پھر اسے آپ کی زبان مبارک سے پڑھو اور سنو اورمجمع عام میں بھی پڑھوادینا صرف اتنا ہی نہیں بلکہ ان آیات کے معارف وحقائق بیان کروادینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ امیرشریعت نے کہاکہ قرآن مجید کا یہ اعجاز ہے کہ ہرشخص اس کو حفظ کرسکتا ہے ۔اس موقع پر امیرشریعت نے آل انڈیا ریم دعوت القرآن کریم کے صدر قاری محمد رضوان بیگ شمسی کے اقدام پر انہیں سراہتے ہوئے مبارکباد پیش کی اورشہریان کو محفل قرأت کے ذریعہ بین الاقوامی قراء کو یہاں لاکر ان کے ذریعہ پرکیف وپرسوز تلاوت کلام پاک سننے کا موقع فراہم کرتے آرہے ہیں۔
’’شمس القراء ‘‘ کا لقب:تقریب کے دوران امیرشریعت مفتی محمد اشرف علی صاحب باقوی نے گزشتہ 17 برسوں سے بین الاقوامی قراء کو شہرلاکر ان کے ذریعہ بہتر قرآن سننے کا موقع فراہم کرنے اورمحفل قرأت کے انعقاد کرتے ہوئے امت مسلمہ کے دلوں کو قرآن پاک سے جوڑنے کے لئے اپنی خدمات انجام دے رہے آل انڈیا ریم دعوت القرآن کریم کے صدر اس محفل کے روح رواں الحاج قاری محمدرضوان بیگ شمسی کو ’’شمس القراء‘‘ کے لقب سے نوازتے ہوئے انہیں اعزاز سے نوازا۔دارالعلوم نظامیہ بادشاہی باغ، ضلع سہارنپور کے بانی مولانا مفتی عبدالغنی الشاشی مہمان خصوصی کے طورپر شریک رہے ۔ اس موقع پر بین الاقوامی شہرت یافتہ فن قرأت کے ماہرین فضیلۃ الشیخ الدکتور احمد نعنیع، شیخ محمدمحمدالمریجی ،شیخ علی محمود الشمسی اورشیخ محمداحمد بیسونی جومصر سے تشریف فرماتھے کے علاوہ سرزمین ہند کے مایہ ناز قرائے کرام نے شرکت کی اور شاندار مظاہرہ کیا جن میں قاری محمداقبال رشادی بنگلور، قاری محمدضیاء الرحمن پرنامبٹ تملناڈو، قاری محمد آیت اﷲ قاسمی بنگلور، قاری محمد احسان محسن قاسمی، قاری محمد عرفان قاسمی بنگلوراور قاری محمدعمیر بنگلور نے اپنی پرسوز آواز میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔ آل انڈیا ریم کے صدر قاری محمدرضوان بیگ شمسی نے بتایا کہ ان کی دعوت پر ریاست کرناٹک کے علاوہ تملناڈو ،آندھرا پردیش، کیرلا کے علاوہ ریاست کے مختلف اضلاع سے مندوبین نے بھی محفل قرأت میں شرکت کی۔مولانا مفتی سیدعطاء اﷲ ندوی اورقاری رضوان بیگ شمسی نے نظامت کے فرائض انجام دئے اورشکریہ ادا کیا ۔تقریب کے دوران حکیم الملت وامیرشریعت مفتی محمداشرف علی صاحب باقوی کے ہاتھوں مولانا حبیب الرحمن صاحب کی کتابوں کا اجراء عمل میں آیا۔